بل دار

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - پیچ دار، مروڑا ہوا، بٹا ہوا۔ "پہلے ایک بل دار پگڑی کا تصور کیجیے۔"      ( ١٩٤٦ء، مقالات شیرانی، ١٤ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'بل' کے بعد فارسی مصدر 'داشتن' کا صیغہ فعل امر 'دار' بطور لاحقہ فاعلی ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو "کلیات ولی" کے ضمیمہ اوّل میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پیچ دار، مروڑا ہوا، بٹا ہوا۔ "پہلے ایک بل دار پگڑی کا تصور کیجیے۔"      ( ١٩٤٦ء، مقالات شیرانی، ١٤ )